شہاب نامہ

 1,995

قدرت اللہ شہاب (1917ء – 1986ء) پاکستان کے نامور سول سرونٹ، اردو ادیب اور سفارت کار تھے۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری “شہاب نامہ” اردو ادب کی ایک شاہکار تصنیف ہے جو نہ صرف ایک فرد کی زندگی کی داستان ہے بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی، پاکستان کے قیام اور ابتدائی پاکستانی تاریخ کا چشم دید اور دلچسپ مرقع بھی ہے۔ یہ کتاب مصنف کی وفات (24 جولائی 1986ء) کے فوراً بعد 1987ء میں شائع ہوئی اور اس نے فوری طور پر شہرت حاصل کر لی۔ آج بھی یہ پاکستانی ادب کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور مقبول آپ بیتیوں میں شمار ہوتی ہے۔

KitabYar

قدرت اللہ شہاب (1917ء - 1986ء) پاکستان کے نامور سول سرونٹ، اردو ادیب اور سفارت کار تھے۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری "شہاب نامہ" اردو ادب کی ایک شاہکار تصنیف ہے جو نہ صرف ایک فرد کی زندگی کی داستان ہے بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی، پاکستان کے قیام اور ابتدائی پاکستانی تاریخ کا چشم دید اور دلچسپ مرقع بھی ہے۔ یہ کتاب مصنف کی وفات (24 جولائی 1986ء) کے فوراً بعد 1987ء میں شائع ہوئی اور اس نے فوری طور پر شہرت حاصل کر لی۔ آج بھی یہ پاکستانی ادب کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور مقبول آپ بیتیوں میں شمار ہوتی ہے۔

قدرت اللہ شہاب 26 فروری 1917ء کو گلگت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم جموں و کشمیر اور انبالہ کے علاقوں میں حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کرنے کے بعد 1941ء میں انڈین سول سروس (ICS) میں منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، جن میں گورنر جنرل غلام محمد، صدر اسکندر مرزا اور صدر ایوب خان کے پرنسپل سیکریٹری کے عہدے شامل ہیں۔ انہوں نے یونیسکو سے بھی وابستگی اختیار کی اور پاکستان رائٹرز گلڈ کی بنیاد میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی دیگر تصانیف میں "یا خدا"، "نفسانے"، "ماں جی" اور "سرخ فیتہ" شامل ہیں، لیکن شہاب نامہ ہی ان کی سب سے بڑی میراث ہے۔

شہاب نامہ تقریباً 893 سے 1248 صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب ہے، مگر اس کا اسلوب اتنا دلچسپ، سادہ اور حقیقت پسندانہ ہے کہ پڑھتے ہوئے اس کی ضخامت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ مصنف نے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ "میں نے حقائق کو انتہائی احتیاط سے ممکنہ حد تک اسی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس رنگ میں وہ مجھے نظر آئے"۔ یہ سادگی اور صداقت کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ شہاب صاحب نے صرف وہی واقعات بیان کیے جو ان کے براہ راست مشاہدے یا علم میں آئے، اس لیے کتاب کی تاریخی اہمیت ناقابل انکار ہے۔ البتہ بعض تفسیر یا زاویہ نظر پر اختلاف کیا جا سکتا ہے۔

کتاب عموماً چار بڑے حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے:

  1. بچپن اور تعلیم: شہاب صاحب کے بچپن کی شرارتیں، شوخیاں، خاندانی ماحول اور تعلیمی سفر بیان ہوئے ہیں۔ یہ حصہ بہت دلچسپ اور مزاحیہ ہے جو قاری کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
  2. آئی سی ایس میں داخلہ اور ملازمت کا دور: برطانوی ہندوستان میں سول سروس کی زندگی، مختلف صوبوں (بہار، اڑیسہ، بنگال) میں تقرریاں، 1943ء کے بنگال کے قحط میں خدمات، اور تقسیم ہند کے ہنگاموں کا تفصیلی احوال۔ یہ حصہ تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
  3. پاکستان کے بارے میں تاثرات: قیام پاکستان کے بعد کی سیاسی صورتحال، گورنر جنرلز اور صدر کے دور میں انتظامی مشاہدات، محلاتی سازشوں، نوکرشاہی کے مسائل، اور مارشل لا کے ادوار کی بے باک داستان۔ شہاب صاحب نے بغیر کسی خوف کے اہم شخصیات کے کردار کھول کر بیان کیے ہیں۔
  4. دینی و روحانی تجربات: کتاب کا آخری حصہ تصوف، روحانی مشاہدات اور اسلام کے فیوض و برکات پر ہے۔ یہاں مصنف کا ذاتی سفرِ روحانیت بیان ہوا ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔

شہاب نامہ کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا ادبی معیار ہے۔ شہاب صاحب کا نثر بہت سلیس، زندہ اور تصویر کش ہے۔ وہ خشک سیاسی یا انتظامی واقعات کو بھی ایسے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو وہاں موجود محسوس کرتا ہے۔ کتاب میں مزاح، رقت، حیرت اور عبرت کے رنگ موجود ہیں۔ یہ نہ صرف سوانح عمری ہے بلکہ بیسویں صدی کے برصغیر اور پاکستان کے سیاسی، سماجی اور تاریخی انقلابات کا مرقع بھی ہے۔ تقسیمِ ہند کی الٹی گھنٹی، ہندو-مسلم کشمکش، پاکستان کی بنیادوں کی کمزوریاں، اور حکمرانوں کی کج رویوں کی نشاندہی اس کتاب کو منفرد بناتی ہے۔

اس کتاب کا مطالعہ پاکستان کی تاریخ، سیاست اور معاشرے کو سمجھنے کے لیے لازمی ہے۔ مورخین، ادیبوں، طلباء اور عام قاری سب اس سے فیض پاتے ہیں۔ شہاب نامہ دیکھنے میں ضخیم مگر پڑھنے میں آسان ہے، کیونکہ اس میں سچائی، انکساری اور انسانی جذبات کی گہرائی موجود ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جو ماضی کو حال سے جوڑتا ہے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے۔

شہاب نامہ نے اردو ادب میں خود نوشت کا معیار بلند کیا ہے۔ یہ نہ صرف قدرت اللہ شہاب کی یادگار ہے بلکہ پاکستانی قوم کی اجتماعی یادداشت کا اہم حصہ بھی بن چکی ہے۔ جو لوگ اسے پڑھتے ہیں، وہ اکثر کہتے ہیں کہ یہ کتاب ایک بار شروع کی تو ختم کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔ یہ ایک زندہ دستاویز ہے جو نسلوں تک زندہ رہے گی۔

اگر آپ تاریخ، ادب اور انسانی تجربات کے شوقین ہیں تو شہاب نامہ ضرور پڑھیں۔ یہ کتاب نہ صرف معلومات دیتی ہے بلکہ دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “شہاب نامہ”

Your email address will not be published. Required fields are marked *