علی پور کا ایلی (ممتاز مفتی)
₨ 2,400
“علی پور کا ایلی” اردو ادب میں خود نوشت فکشن کا ایک منفرد نمونہ ہے۔ یہ قاری کو صرف تفریح نہیں دیتا بلکہ خود احتسابی، انسانی کمزوریوں اور نفسیاتی گہرائیوں پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر آپ انسانی نفسیات، خاندانی ڈراموں اور بے باک حقیقت نگاری کے شوقین ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے لازمی ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر لوگ اکثر کہتے ہیں کہ ایک بار شروع کی تو ختم کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔ یہ ممتاز مفتی کی فنکارانہ بصیرت اور جرأت کی زندہ مثال ہے جو آج بھی اردو ادب کے طلباء، ادیبوں اور عام قاری کو متاثر کرتی رہتی ہے۔
ممتاز مفتی (1905ء - 1995ء) اردو ادب کے عظیم ترین افسانہ نگاروں، ناول نویسوں اور نفسیاتی تجزیہ کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی سب سے مشہور اور متنازعہ تصنیف "علی پور کا ایلی" ہے، جو 1961ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب ابتدا میں ایک ناول کی حیثیت سے پیش کی گئی تھی، مگر بعد میں (خاص طور پر 1990 کی دہائی میں) مصنف نے خود تسلیم کیا کہ یہ ان کی اپنی زندگی کی کہانی ہے۔ یہ ایک ضخیم خود نوشت سوانحی ناول ہے جو تقریباً 1188 سے 1500 صفحات پر مشتمل ہے۔
اسے اردو ادب کا "گرو گرنتھ" کہا جاتا ہے۔ ابن انشاء نے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب اس لیے مشہور ہوئی کہ اسے آدم جی ادبی انعام نہ مل سکا، حالانکہ بانو قدسیہ، جمیل الدین عالی، قدرت اللہ شہاب اور دیگر اہل قلم نے اس کی بہت تعریف کی۔ یہ کتاب انسانی نفسیات، جنسی کشمکش، خاندانی تعلقات، معاشرتی تابوؤں اور ذاتی جدوجہد کی ایک بے باک، بے پردہ اور فنکارانہ تصویر کشی ہے۔
ممتاز مفتی کا اصل نام ممتاز حسین تھا۔ وہ بٹالہ (اب بھارت) میں پیدا ہوئے۔ برطانوی دور میں تعلیم حاصل کی اور سرکاری ملازمت کی۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے۔ ان کا ادبی سفر افسانوں سے شروع ہوا، جن میں "ان کہی"، "گہما گہمی"، "چپ" جیسے مجموعے شامل ہیں۔ انہوں نے سفرنامے ("لبیک"، "ہند یاترا") بھی لکھے، مگر "علی پور کا ایلی" اور اس کا تسلسل "الکھ نگری" ان کی سب سے بڑی ادبی میراث ہیں۔ 1986ء میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
علی پور کا ایلی مصنف کی زندگی کے ابتدائی چالیس برسوں (تقریباً 1905 سے 1947 تک) کا احاطہ کرتا ہے۔ مرکزی کردار الیاس (ایلی) مصنف کی ہی ذات ہے۔ کہانی علی پور نامی ایک گاؤں اور شہری ماحول میں گھومتی ہے۔ ایلی ایک حساس، شرمیلا، احساس کمتری کا شکار لڑکا ہے جو خاندانی ماحول، خاص طور پر والد علی احمد کی جنسی آزادی اور عورتوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے شدید نفسیاتی الجھنوں سے گزرتا ہے۔
والدہ حاجرہ ایک صابر اور وفادار خاتون ہیں، جبکہ سوتیلی ماؤں (صفیہ اور شمیم) کی موجودگی گھریلو ماحول کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ ناول میں عورت کے کردار کو مختلف جہتوں — محبت، نفرت، کشش، شرم، محرومی اور طاقت — سے پیش کیا گیا ہے۔ تقریباً سو کے قریب کردار ہیں، جن میں شہزاد (اصل نام نور الصباح) ایک اہم کردار ہے۔
ممتاز مفتی نے انسانی نفسیات کو بہت گہرائی سے کھنگالا ہے۔ جنسی موضوعات پر بے باکی سے بات کی گئی ہے، مگر اس میں نہ فحاشی ہے اور نہ عریانی — یہ ایک فنکارانہ نفسیاتی مطالعہ ہے۔ کتاب معاشرتی تابوؤں، خاندانی رشتوں کی پیچیدگیوں، احساس محرومی، خود شناسی اور زندگی کی تلخ حقیقتوں پر روشنی ڈالتی ہے۔
اسلوب اور اہمیت ممتاز مفتی کا نثر بہت سلیس، زندہ، تصویر کش اور بے تکلف ہے۔ وہ واقعات کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو ایلی کی جگہ محسوس کرتا ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے قاری ہنستا ہے، رلتا ہے، سوچتا ہے اور کبھی حیران بھی ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف خود نوشت ہے بلکہ بیسویں صدی کے پنجاب کے دیہی اور شہری معاشرے، برطانوی دور کے آخر اور تقسیم ہند کے ماحول کا بھی مرقع ہے۔ مقبولیت کی وجہ سے یہ کتاب بار بار چھپی۔ بعد کے ایڈیشنز میں مصنف نے کرداروں کے اصل نام بھی ظاہر کر دیے، جس سے اس کی تاریخی اور سوانحی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
"علی پور کا ایلی" اردو ادب میں خود نوشت فکشن کا ایک منفرد نمونہ ہے۔ یہ قاری کو صرف تفریح نہیں دیتا بلکہ خود احتسابی، انسانی کمزوریوں اور نفسیاتی گہرائیوں پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر آپ انسانی نفسیات، خاندانی ڈراموں اور بے باک حقیقت نگاری کے شوقین ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے لازمی ہے۔
یہ کتاب پڑھ کر لوگ اکثر کہتے ہیں کہ ایک بار شروع کی تو ختم کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔ یہ ممتاز مفتی کی فنکارانہ بصیرت اور جرأت کی زندہ مثال ہے جو آج بھی اردو ادب کے طلباء، ادیبوں اور عام قاری کو متاثر کرتی رہتی ہے۔
"علی پور کا ایلی" نہ صرف ممتاز مفتی کی یادگار ہے بلکہ اردو ناول نگاری کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔


Reviews
There are no reviews yet.